مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے کہا کہ حکومت عراق کی سرزمین اور فضائی حدود کو کسی بھی ایسی کارروائی کے لیے استعمال ہونے سے روکنے کی پابند ہے جو ہمسایہ ممالک کی سلامتی کے لیے خطرہ بن سکتی ہو۔
الجزیرہ کے مطابق، الزیدی نے حشد الشعبی سے متعلق قانون کی منظوری کے لیے کوششیں جاری رکھنے کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ایسا قانون منظور کرانے کی کوشش کرے گی جس کے تحت حشد الشعبی کی افواج، مسلح افواج کے کمانڈر ان چیف کی کمان میں ہوں گی۔
عراقی وزیراعظم نے ایک بار پھر کہا کہ حکومت کے کنٹرول سے باہر موجود ہتھیاروں کے معاملے سے نمٹنے کا عمل یکم اکتوبر سے سنجیدگی کے ساتھ شروع کیا جائے گا۔
الزیدی نے حکومت کے کنٹرول سے باہر موجود ہتھیاروں سے نمٹنے کے لیے ایک روڈ میپ کا بھی اعلان کیا، جس کے تحت اس معاملے کو زیادہ سے زیادہ 30 جون 2027 تک حل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ جنگ اور امن کا فیصلہ کرنا قانونی طور پر سرکاری حکام کا اختیار ہے اور حکومت ایسے کسی بھی فوجی اقدام کی ممانعت پر زور دیتی ہے جو اس اصول کے خلاف ہو۔
عراقی وزیراعظم نے مزید کہا کہ حکومت عراق کی سرزمین پر موجود تمام غیر عراقی مسلح گروہوں کو غیر مسلح کرنے کے لیے بھی کوشش کرے گی۔
آپ کا تبصرہ